تعارف

علم جیسی لازوال دولت کی اہمیت اور ضرورت سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا ۔ کیونکہ جہاں علم ہے وہاں شعور اور تہذیب ہے اور جہاں علم نہیں ہے وہاں بدتہذیبی اور گمراہی پائی جاتی ہے۔ انسان ہونے کے ناطے آج ہر شخص اچھے سے اچھے کی تلاش میں سرگرداں ہے۔

علم اللہ رب العزت کی بڑی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے اور حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ ’’ دو شخص ایسے بھی ہیں کہ ان کا پیٹ نہیں بھر سکتا۔ ان میں سے ایک علم کا طلب گار ہے‘‘  کہ اس کو کبھی شکم سیری نہیں ہوتی ۔ لہٰذا انسان علم کو اچھے سے اچھے انداز اور بہتر سے بہتر ماحول میں حاصل کرنے کی خواہش رکھتاہے ۔ اس کے لیے وہ اپنے وسائل کا ایک بڑا حصہ بھی لگا دیتاہے۔ لہٰذا ایسے موقع پر کسی بھی شخص کو دو بڑے مسائل کاسامنا کرنا پڑتاہے۔

ایک بڑامسئلہ تو وسائل کی عدم دستیابی کہ آج کے موجودہ حالات میں کسی متوسط طبقے کے شخص کا اپنے دو یا تین بچوں کو کسی معیاری اسکول میں تعلیم دلانا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ 

دوسرابڑا مسئلہ یہ ہوتاہے کہ ایسا ادارہ جس میں بچے کی تعلیم و تعلّم خوب بہترین انداز میں ہو اور تربیت کا ماحول بھی موجود ہو ۔ ایسے ادارے کی تلاش بھی بہت بڑا صبر آزما مرحلہ ہوتا ہے۔ لیکن آج کے جدّت پسندی کے دور میں بھی اللہ پاک کے فضل و کرم سے ایسے ادارے موجود ہیں جہاں تعلیم و تربیت دونوں کی طرف خوب توجہ اور نظر ہوتی ہے جس کا اثر اور رنگ طالب علم پر نمایاں نظر آتاہے۔ 

اس حوالے سے الحمد للہ ادارہ ریلیف فاؤنڈیشن انٹرنیشنل کی کوششیں متفرق انداز سے جاری ہیں۔ جس میں سے ایک کوشش’’ العلم فاؤنڈیشن اسکول ‘‘ کی شکل میں عرصہ پانچ سال سے عمل پذیر ہے۔ 

اس شعبے میں ان بچوں کو لیا جاتاہے جنھوں نے قرآن کریم مکمل حفظ کر لیا ہو ۔ یاوہ بچے ہوتے ہیں جن کی عمر زیادہ ہو گئی ہو۔ اور وہ کسی قسم کا تعلیمی سلسلہ نہ رکھتے ہوں۔ ایسے تمام بچوں کا تعلیمی دورانیہ پانچ سال کا ہوتا ہے ۔ اس دورانیہ کو مرحلہ وار مندرجہ ذیل نقشے میں دیکھ سکتے ہیں۔ 

اللہ پاک کے فضل و کرم سے مذکورہ بالا سسٹم عرصۂ چھ سال سے ادارہ میں خاصی کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے۔ اور پانچ گروپ کامیابی کے ساتھ اس سسٹم کے مطابق تعلیمی مراحل کو مکمل کرکے میٹرک بورڈ سے امتحانات دے چکے ہیں۔ 

بہر کیف ! شعبے کی تمام صورت حال کو چند سطور میں جمع کرناممکن نہیں ہے۔

یہ شعبہ ابتدائیہ کا مختصر تعارف ہے۔